موسمیاتی لچک کو عالمی فنانس کا حصہ بنانا ضروری ہے، محمد اورنگزیب

ریاض( آن لائن )سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں گلوبل ڈویلپمنٹ فنانس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے شریک مندوبین نے عالمی سطح پر موسمیاتی چیلنجز، فنانسنگ کی ضروریات اور ترقیاتی حکمتِ عملیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی، جنہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کے موسمیاتی تجربات، مالی ضروریات اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر جامع روشنی ڈالی۔کانفرنس کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ عالمی تعاون کے بغیر موسمیاتی چیلنجز پر قابو پانا ممکن نہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ موسمیاتی لچک کو عالمی ترقیاتی فنانس کا بنیادی حصہ بنانا ناگزیر ہے، کیونکہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ 2022 کے سیلابوں سے پاکستان کی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا، جبکہ مسلسل سیلابوں کے باعث رواں سال جی ڈی پی میں آدھا فیصد کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ریسکیو اور ریلیف کے لیے فوری اقدامات کیے، تاہم بحالی و تعمیرِ نو کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ نیشنل ایمرجنسی سینٹر میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ارلی وارننگ سسٹم فعال ہو چکا ہے، جو موسمیاتی آفات کی پیشگوئی اور بروقت ردعمل میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اور ورلڈ بینک کے درمیان 10 سالہ شراکت داری فریم ورک میں 20 ارب ڈالر کا منصوبہ شامل ہے، جس کا ایک تہائی حصہ موسمیاتی لچک اور ڈی کاربونائزیشن کے لیے مختص ہے۔وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو فوری طور پر بینک ایبل پروجیکٹس تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی فنڈز تک موثر رسائی ممکن ہو سکے۔ ان کے مطابق گرین کلائمیٹ فنڈ اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ تک رسائی پیچیدہ اور سست ہے، جسے آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے کلائمیٹ ریزیلینس فنڈ کی پہلی 20 کروڑ ڈالر قسط پاکستان کو موصول ہو چکی ہے

، تاہم بیرونی فنانسنگ کے بغیر موسمیاتی موافقت کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔خطاب کے دوران انہوں نے بجٹ سازی میں موسمیاتی ترجیحات کو شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ وقت کی بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ مضبوط تعلقات، منرلز، مائننگ اور جدید ٹیکنالوجیز میں تعاون کے فروغ کا بھی ذکر کیا۔وزیر خزانہ نے ریکوڈک منصوبے کو پاکستان کی معاشی تبدیلی کا اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ 7 ارب ڈالر کا فنانشل کلوز مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایف سی اور یو ایس ایکزم بینک اس منصوبے کا حصہ ہیں اور اس کے 2028 تک پاکستان کی برآمدات میں 10 فیصد اضافہ کرنے کی توقع ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکا، چین اور جی سی سی ممالک کے سرمایہ کار بھی اس منصوبے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی "اینڈ ٹو اینڈ” پالیسی امریکا اور چین دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات پر مبنی ہے جبکہ سی پیک فیز 2.0 میں بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کو بنیادی توجہ حاصل ہے۔

Comments are closed.