پاکستان کا کسٹمز اور ٹیرف نظام غیر موٴثر، حد سے زیادہ پیچیدہ اور معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے،آئی ایم ایف

اسلام آباد (آن لائن) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے کسٹمز اور ٹیرف نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے غیر موٴثر، حد سے زیادہ پیچیدہ اور معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی تجارتی پالیسیاں خطے میں سب سے زیادہ تحفظ پسند (Protectionist) ہیں، جن کے باعث نہ صرف مسابقت متاثر ہو رہی ہے بلکہ برآمدات، سرمایہ کاری اور وسائل کے درست استعمال میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ٹیرف میں دی جانے والی چھوٹ کا فائدہ چند مخصوص شعبوں اور بڑی کمپنیوں تک محدود ہے، جبکہ عام صنعت اور صارفین اس سے محروم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ کسٹمز ڈیوٹی میں بظاہر کمی کی گئی، تاہم اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں نمایاں اضافہ کرکے مجموعی ٹیرف بوجھ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان کا مجموعی ٹیرف خطے میں بلند ترین سطح پر رہا، جس کے نتیجے میں وسائل کا غلط استعمال ہوا اور برآمدات کو شدید نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں خاص طور پر گاڑیوں پر عائد بھاری ٹیرف کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں ڈیوٹیز 150 فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ زراعت اور خوراک کے شعبے میں بھی بلند ٹیرف کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پیچیدہ اور غیر شفاف ٹیرف ڈھانچہ نہ صرف کاروباری لاگت بڑھا رہا ہے بلکہ ملکی معیشت کی عالمی مسابقت

Comments are closed.