اسلام آباد (آن لائن) پاکستان کی معیشت نے حالیہ برسوں میں نمایاں بہتری کے ساتھ ترقی کی ایک نئی اور روشن راہ اختیار کر لی ہے۔ اسٹریٹجک پالیسی اصلاحات، بالخصوص اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی موٴثر اور دوراندیش حکمتِ عملی کے نتیجے میں صنعتی، زرعی اور دیگر اہم شعبوں میں شاندار پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے، جو ملکی اقتصادی استحکام اور پائیدار ترقی کی واضح عکاسی کرتی ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستانی معیشت گزشتہ سال کے مقابلے میں مثبت سمت میں گامزن ہے اور رواں مالی سال کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 3.71 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال کی 1.56 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں 2.15 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اضافہ ملکی معیشت میں نئی توانائی، اعتماد اور سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع کا مظہر ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں صنعتی شعبے نے 9.38 فیصد کی شاندار شرح نمو حاصل کی، جبکہ گزشتہ سال یہی شعبہ محض 0.12 فیصد ترقی کر سکا تھا۔ یہ نمایاں فرق معاشی بحالی اور صنعتی سرگرمیوں میں تیزی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں 2.89 فیصد جبکہ لائیو اسٹاک کے شعبے میں 6.29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ملکی معیشت کی متوازن اور مستحکم ترقی کی ضمانت ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں نمایاں بہتری سے نہ صرف پیداواری استحکام آیا ہے بلکہ کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو ملکی اقتصادی مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے۔ اسی طرح مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 5.78 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آٹوموبائل اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں بالترتیب 84.6 فیصد اور 40.7 فیصد کی غیر معمولی ترقی دیکھنے میں آئی۔
مالی اور انشورنس کے شعبے میں 10.36 فیصد نمو کے ساتھ گزشتہ سال کے منفی اثرات سے نمایاں بحالی سامنے آئی ہے، جبکہ تعمیرات، تعلیم، صحت، پبلک ایڈمنسٹریشن اور جنگلات جیسے شعبوں میں بھی خاطر خواہ ترقی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ تمام اشاریے اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ ملکی معیشت ایک متوازن اور پائیدار راستے پر گامزن ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کی مستحکم معیشت اور مسلسل مثبت شرح نمو ملک کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنا رہی ہے، جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ قومی معیشت کو بھی طویل المدتی فوائد حاصل ہوں گے۔ایس آئی ایف سی کی بصیرت افروز، نتیجہ خیز اور جامع حکمتِ عملی کو ماہرین پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی میں سنگِ میل قرار دے رہے ہیں، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں مزید نمایاں ہونے کی توقع ہے۔\
Comments are closed.