اسلام آباد (آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے خلاف آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت انحراف کا ریفرنس چیئرمین سینٹ کو بھجوا دیا گیا ہے، جس کے بعد انہیں پارٹی سے منحرف قرار دے دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر کی جانب سے جمع کرائے گئے ریفرنس کے مطابق سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 27 ویں آئینی ترمیم پر ووٹ دیا، جس پر پارٹی نے ضروری کارروائی کی ہے۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ شوکاز نوٹس کے ذریعے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو اپنی وضاحت پیش کرنے کا بھرپور موقع دیا گیا، تاہم انہوں نے کوئی جواب جمع نہیں کرایا۔ پارٹی کے مطابق تمام کارروائی آئین کے تحت شفافیت کے ساتھ مکمل کی گئی۔ڈیفیکشن ڈیکلریشن چیئرمین سینٹ کے ذریعے الیکشن کمیشن کو بھی ارسال کر دی گئی ہے، تاکہ آئینی تقاضوں کے مطابق مزید قانونی کارروائی کی جا سکے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ قدم پی ٹی آئی کی پارٹی پالیسی کے نفاذ اور آئینی حدود کے احترام کی واضح مثال ہے، اور مستقبل میں دیگر ارکان کے لیے بھی اصولی پیغام کا درجہ رکھتا ہے۔
Comments are closed.