مودی حکومت کی مہنگی امریکی لابنگ بے نقاب، سوشل میڈیا کنٹرول کے لیے غیر ملکی فرم کی خدمات حاصل کرنے کا انکشاف
سرینگر (آن لائن) بھارتی تجزیہ نگار راجو پاریلیکر کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ نے مودی حکومت کی غیر ملکی لابنگ اور ابلاغی حکمتِ عملی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تجزیہ نگار کے مطابق بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پر ناپسندیدہ پوسٹس کو فلیگ کرانے اور اپنی بیانیہ سازی مضبوط بنانے کے لیے امریکا کی ایک لابنگ فرم کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں، جس پر بھارتی ٹیکس دہندگان کا خطیر سرمایہ خرچ کیا جا رہا ہے۔راجو پاریلیکر کے مطابق بھارت نے اپریل 2025 سے وائٹ ہاوٴس میں لابنگ کے لیے **SHW Partners LLC** نامی امریکی فرم کو ہائر کر رکھا ہے۔ اس لابنگ مہم پر مودی حکومت سالانہ ایک اعشاریہ آٹھ ملین ڈالر خرچ کر رہی ہے، جبکہ ماہانہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ ڈالر ادا کیے جا رہے ہیں۔ تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی ٹیرف کے نفاذ کے بعد مودی حکومت کی یہ مہنگی لابنگ مہم منظر عام پر آئی ہے۔تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ مودی کا طرزِ حکمرانی یک طرفہ ابلاغ پر مبنی ہے، جہاں مکالمہ، شفافیت اور کھلی پریس کانفرنسز کا مکمل فقدان نظر آتا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ گیارہ برسوں میں وزیراعظم نریندر مودی کی کسی بھی کھلی پریس کانفرنس کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں، جو جمہوری روایات کے برعکس ہے۔راجو پاریلیکر کے مطابق سفارتی نااہلی اور ابلاغی کمزوریوں نے بھارت کو کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے، جبکہ ”برینڈ مودی“ اور ہندوتوا نظریے کی تشہیر بھی عوام کے ٹیکس کے پیسے سے کی گئی۔ پوسٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مودی کے ایک قریبی ساتھی کو طلبی کے نوٹس جاری ہونے کے بعد لابنگ خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔تجزیہ نگار کے مطابق یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مودی حکومت اندرونی و بیرونی تنقید سے نمٹنے کے لیے شفاف مکالمے کے بجائے مہنگی غیر ملکی لابنگ اور کنٹرولڈ بیانیہ سازی پر انحصار کر رہی ہے، جس کا بوجھ براہِ راست بھارتی عوام پر پڑ رہا ہے۔
Comments are closed.