حماس ،اسرائیل جنگ ،مجموعی ہلاکتیں 900 سے تجاوز کرگئیں
تل ابیب،غزہ (آن لائن) حماس کے غیرمتوقع حملے کے بعد اسرائیلی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 600 سے زائد ہوگئی ہے اور فوجیوں سمیت درجنوں افراد کو یرغمال بنا لیا گیا ہے جبکہ فلسطینی حکام کے مطابق غزہ پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 370 فلسطینی شہید اور قریب دو ہزار زخمی ہوئے ہیں۔اس طرح 2 روز سے جاری حماس اور اسرائیل جھڑپوں میں مجموعی ہلاکتیں 900 سے متجاوز کرگئی ہیں ۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے اس کے علاقے میں آٹھ مقامات پر لڑائی جاری ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری اس حالیہ کشیدگی کو اب 24 گھنٹے مکمل ہو چکے ہیں ۔
حماس کے اچانک حملے کے بعد سے اسرائیلی فوج دوسرے روز تک بھی سنبھل نہیں پائی ۔ مختلف جھڑپوں میں اسرائیلیوں کی ہلاکت تعداد 600 سے تجاوز کرگئی جس میں 100 سے زائد فوجی کمانڈرز اور اہلکار شامل ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بزدلانہ کارروائی میں غزہ میں حماس کے کمانڈرز کے گھروں پر رات بھر بمباری کی۔ ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں۔ غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے مطابق ان حملوں میں بچوں سمیت 3 13 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی اسرائیل کے کئی حصوں میں اسرائیلی افواج اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انھوں نے جنوب کے زیادہ تر علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے، لیکن غزہ کی سرحد کے قریب کے اسرائیلی علاقوں بشمول بیری اور سدروٹ میں اب بھی شدید لڑائی جاری ہے۔ادنر برطانیہ میں اسرائیلی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ ایک برطانوی شہری جیک مارلو لاپتہ ہیں، وہ غزہ کی سرحد کے قریب اْس وقت ایک آوٴٹ ڈور ڈانس فیسٹیول میں سیکیورٹی اسٹاف کے طور پر کام کر رہے تھے جب یہ حملہ ہوا۔
ٹائمز آف اسرائیل نے آئی ڈی ایف کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی اسرائیل اور غزہ کی پٹی میں 400 سے زائد فلسطینی عسکریت پسند ہلاک اور درجنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ترکی میں اسرائیلی سفارت خانے نے اسرائیلی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ کم از کم 300 اسرائیلی اب تک اس کشیدگی میں ہلاک ہو چْکے ہیں جبکہ درجنوں کو حماس کی جانب سے اغوا کیا گیا ہے۔فلسطینی حکام کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اب تک اسرائیلی فضائی حملوں میں 313 افراد کو غزہ کی پٹی پر ہلاک کیا جا چْکا ہے۔ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ ملک ’اب بھی حالتِ جنگ میں ہے‘ اور اب بھی حماس سے اسرائیلی علاقے اور مقامی آبادیوں کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔’گذشتہ شب سے اسرائیلی سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی وہ ویڈیوز دیکھ رہے ہیں کہ جن میں شہریوں کو بندوق کی نوک پر ان کے گھروں سے باہر نکالا گیا اور بعد ازاں اْنھیں غزہ منتقل کیا گیا اور اکثر کو کیمرے کے سامنے تضحیک کا نشانہ بھی بنایا گیا۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے حماس کو متنبہ کیا ہے کہ اگر یرغمالیوں کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔یہ دیکھنا مشکل ہے کہ وہ زمینی آپریشن کے بغیر یرغمالیوں کو کیسے بازیاب کرا سکتے ہیں – اور وہ اس بات کو کیسے یقینی بنا سکتے ہیں کہ وہ فائرنگ میں ہلاک نہ ہوں۔اسرائیلی فوج ہزاروں کی تعداد میں فوجیوں کو متحرک کر رہی ہے اور ٹینکوں کو غزہ کی سڑک پر لایا جا رہا ہے۔ کسی موقع پر زمینی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے غزہ کی سرحد کے قریب ’سدروت‘ کے ایک پولیس سٹیشن پر 10 مسلح جنگجووٴں سے لڑائی کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے پر اسرائیل نے دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انھوں نے رات گئے جنوبی علاقے کے بیشتر حصوں کا کنٹرول واپس حاصل کر لیا ہے، لیکن غزہ کی سرحد کے قریب بیری، سدروٹ اور چار دیگر جنوبی مقامات پر جھڑپیں جاری ہیں جن کی وضاحت نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق غزہ کی سرحد کے قریب واقع ایک اور علاقے ’کفر عزا‘ کے رہائشی اب بھی اپنے گھروں میں محصور ہیں اور امداد کے منتظر ہیں۔ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ ’کفر عزا اب بھی شدید جنگ کی زد میں ہے۔‘ دریں اثنا حماس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متعدد علاقوں میں ’شدید لڑائی‘ جاری ہے۔
تھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل میں حماس کے عسکریت پسندوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں دو تھائی شہری مارے گئے۔وزیر اعظم سرتا تھاوسین نے دونوں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں جبکہ وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ تھائی شہریوں کو اسرائیل سے نکالنے کے لیے کام کر رہی ہے۔کمبوڈیا نے اس سے قبل جھڑپوں کے نتیجے میں کمبوڈیا کے ایک طالب علم کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ ادھر لبنان کی حزب اللہ نے اسرائیلی سرزمین مارٹر حملے کیے جس میں بڑے پیمانے پر اسرائیلیوں کی ہلاکتوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اسرائیل نے بھی لبنان پر میزائل داغے تاہم کسی نقصان کی اطلاع تاحال موصول نہیں ہوئی۔اقوام متحدہ سمیت عالمی قوتوں نے اسرائیل اور حماس سے تحمل سے کام لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے دونوں ممالک کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے عالمی قوتوں کے مطالبے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے غزہ میں حماس کے ٹھکانوں کو ملیا میٹ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے اسرائیلی شہریوں کو 24 گھنٹوں میں غزہ چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کا کہنا ہے غزہ میں کامیابی کے بعد یہ جنگ مغربی کنارے اور یروشلم تک جائے گی اور اپنی سرزمین سے قابضین کے خاتمے تک جاری رہے گی۔
Comments are closed.