غزہ میں قیامت کا سماں جاری ، مزید 377 فلسطینی شہید، تعداد 8000 سے تجاوز کرگئی
بیت المقدس (آن لائن) غزہ میں قیامت سے پہلے قیامت کا سماں جاری ہے ۔ صیہو نیوں کے حملوں میں مزید تین سو سینتیس فلسطینی شہر یوں کی شہادت کے بعد شہدا کی تعداد آ ٹھ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے ۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس اور سرائیل میں کئی روز سے جاری جنگ میں شدت کا سلسلہ جاری ہے ہے۔ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں اب تک شہید ہونیوالے فلسطینیوں کی تعداد 8 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔شہدا ء میں 3600 سے زائد بچے اور 1800 خواتین شامل ہیں، اب تک 22 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوچکے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خان یونس میں ایک گھر پر حملے میں 13 فلسطینی شہید ہوگئے،اسپتالوں میں میڈیکل اسٹاف اور ادویات کی قلت برقرار ہے۔ دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے اسرائیل کے اہم ترین شہر دیمونا کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔اسرائیل کے صحرائے نقب میں واقع دیمونا شہر خفیہ حساس جوہری تنصیبات کی وجہ سے اہم ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا حماس کے حملے میں صیہونی فورسز یا حساس جوہری تنصیبات کو کسی قسم کا نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائی میں شریک ایک فوجی ٹرک کو بھی تباہ کر دیا ہے جبکہ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوجی قافلے اور چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کے شہریوں کو ایک بار پھر جنوب میں منتقل ہونے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوب میں غزہ کے شہری پانی، خوراک، ادویات حاصل کر سکیں گے۔اسرائیلی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ کل سے امریکا اور مصر کی غزہ کیلئے انسانی امداد کی کوششوں کو بڑھایا جائے گا، اسرائیل کی لڑائی غزہ کے لوگوں سے نہیں، حماس کے ساتھ ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے جنگ کے نئے مرحلے کا اعلان کرتے ہوے غزہ پر حملوں کو آزادی کے لیے دوسری جنگ قرار دیدیا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری زمینی کارروائیاں جنگ کا دوسرا مرحلہ ہے، غزہ پٹی کے اندر جنگ مشکل اور طویل ہوگی۔ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں حماس کو ہر صورت شکست دینی ہے کیونکہ یہ ہمارے لیے وجود کا امتحان ہے۔
Comments are closed.