اسرائیلی وزیر ثقافت اسلام دشمنی میں پاگل ، غزہ پر اٹیم بم گرانے کی دھمکی دیدی
تل ابیب (آن لائن)اسرائیل کے وزیر ثقافت امیچائی الیاہو نے ا سلام دشمنی میں پاگل ہو کر غزہ پر ایٹم بم گرانے کی دھمکی دے دی جس کے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو نے ا س کی جنگی کابینہ سے رکنیت معطل کر دی ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر امیچائی الیاہو نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ غزہ پر ایٹم بم گرانے پر غور کیا جا سکتا ہے اور غزہ سے فلسطینیوں کو نکال کر وہاں اسرائیلیوں کو آباد کرنا چاہیے۔ فلسطینیوں کو صحرائے سینا یا آئرلیں ڈ بھیج دیا جائے ، فلسطین کا پرچم اٹھانے والوں کا اس زمین پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے حماس کا کہنا تھا کہ الیاہو کا بیان نیتن یاہو حکومت کی بے مثال دہشتگردی کی عکاسی کرتا ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے وزیر ثقافت کے اس بیان کے بعد ان کی جنگی کابینہ سے رکنیت معطل کر دی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم آفس کی جانب سے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امیچائی الیاہو کا بیان حقیقت سے الگ ہے،اسرائیل اور اسرائیلی ڈیفنس فورسز بین الاقوامی قوانین کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ادھر اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے 60 یرغمالی لاپتا ہو گئے ۔ عرب نشریاتی ادارے کے مطابق حماس کے عسکری بازو عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر بتایا کہ 7 اکتوبر کے حملے کے دوران یرغمال بنائے جانے والے 60 قیدی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے لاپتا ہو گئے ہیں۔ترجمان ابو عبیدہ نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ قابض اسرائیل کی غزہ کے خلاف مسلسل جارحیت کی وجہ سے ہم ان تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے۔ دریں اثناء امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن مغربی کنارے کے دورے پر پہنچ گئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ نے رام اللّٰہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی ہے۔علاوہ ازیں عمان میں عرب امریکی اجلاس کے موقع پر سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل اور امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کی بھی ملاقات ہوئی ہے۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی اور امریکی وزرائے خارجہ نے غزہ میں فوجی کارروائیاں روکنے کی کوششوں اور انسانی و طبی امداد پہنچانے پر تبادلہ خیال کیا۔
Comments are closed.