غزہ کے اسپتالوں میں آگ اور خون کا کھیل نہیں دیکھنا چاہتے، امریکہ
واشنگٹن ،غزہ (آن لائن)امریکا نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ غزہ کے اسپتالوں میں آگ اور خون کا کھیل نہیں دیکھنا چاہتے۔غزہ کے اسپتالوں کے اندر آتش گیر ہتھیاروں سے لڑائی سے گریز کیا جائے، جبکہ غزہ میں 7 اکتوبر سے پہلے والی حکومت قائم نہیں رہے گی اور نہ ہی مذاکرات دوبارہ اس سے قبل ہونے والے بات چیت کی سطح تک جا پائیں گے ۔ ا ن خیالات کا ا اظہار وائٹ ہاوٴس میں نیشنل سکیورٹی کے ترجمان جیک سلیوان نے امریکی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے اسرائیلی افواج پر واضح کردیا ہے کہ غزہ کے اسپتالوں کے اندر آتش گیر ہتھیاروں سے لڑائی سے گریز کیا جائے جس سے سویلینز کی زندگیوں کو خطرہ درپیش ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اسرائیل کو واضح پیغام پہنچایا ہے کہ امریکا غزہ کے اسپتالوں میں معصوم شہریوں اور علاج کیلئے موجود مریضوں کو گولیوں کا شکار بنتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔ امریکی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ غزہ سے امریکی شہریوں کا انخلا جاری رکھا جائے گا تاہم شہریوں کے انخلا میں یہ مسئلہ درپیش ہے کہ رفاح کراسنگ کبھی کھلتی ہے اور کبھی بند ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح کبھی نکلنے والوں کی فہرست میں امریکیوں کے نام شامل ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے تاہم جو بھی صورتحال ہو تمام امریکیوں کا انخلا یقینی بنایا جائے گا۔ جیک سیلوان نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے پہلے والی حکومت قائم نہیں رہے گی اور نہ ہی مذاکرات بہتری کی طرف جا سکیں گے ۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر غزہ پر آئندہ حکومت حماس کی نہیں ہوگی تو حکومت کس کی ہوگی اور طرز حکومت کیا ہوگا۔ دوسری جانب حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے امریکی مشیر قومی سلامتی کے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر صرف غزہ کے عوام کی حکومت ہوگی اور عوام فلسطینیوں کے سوا کسی اور سیاسی جماعت یا اتھارٹی کو قبول نہیں کریں گے۔
Comments are closed.