ایران کی جانب سے امریکی ٹینکرز کو قبضے میں لینے پر کشیدگی میں اضافہ

واشنگٹن( آن لائن) بحیرہ احمر میں ایران کی جانب سے امریکی ٹینکرز کو قبضے میں لینے پر کشیدگی میں اضافہ ، امریکی بحریہ کے دو جنگی جہاز بحیرہ احمر پہنچ گئے ،تین ہزار سے زائد فوجی اہلکار بھی شامل ہیں ۔امریکی بحریہ نے بتایا کہ امریکی بحریہ کے اہلکار پہلے سے طے شدہ تعیناتی میں سوئز نہر سے گزرنے کے بعد کو بحیرہ احمر میں داخل ہوئے

امریکی بحریہ نے مزید کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی ٹینکرز کو اپنے قبضے میں لیے جانے کے ردعمل میں واشنگٹن کے حکم پر 3 ہزار سے زائد فوجی اہلکاروں پر مشتمل 2 جنگی جہاز بحیرہ احمر پہنچ گئے ہیں۔ امریکی فوج کی اس نئی تعیناتی سے تیل کی عالمی تجارت کے لیے استعمال ہونے والے اہم خلیجی آبی گزرگاہوں میں امریکی فوج کی بڑھتی ہوئی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ تہران نے امریکا پر ’علاقائی عدم استحکام کو ہوا دینے‘ کا الزام عائد کیا۔

تاہم، ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے صحافیوں کو بتایا کہ تازہ ترین امریکی فوج کی تعیناتی صرف واشنگٹن کے مفادات کے لیے کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکا کی فوجی موجودگی نے کبھی سلامتی پیدا نہیں کی، اس خطے میں ان کے مفادات نے ہمیشہ عدم استحکام اور عدم تحفظ کو ہوا دینے پر مجبور کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات پر پورا یقین ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کی صلا حیت رکھتے ہیں

Comments are closed.