یمن میں 200سے زائد تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی‘49ہلاک

نیویارک (آن لائن)اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی نے کہا ہے کہ یمن کے قریب 200 سے زائد تارکین وطن کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 49 افراد جان کی بازی ہار گئے، مرنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) نے بتایا کہ پیر کو جنوبی صوبے شبوہ کے قریب 260 افراد کو لے جانے والی کشتی کے الٹنے سے کم از کم 49 تارکین وطن ڈوب گئے اور 140 کے قریب لاپتا ہیں۔اس میں کہا گیا ہے کہ مرنے والوں میں 31 خواتین اور 6 بچے شامل ہیں،ابتدائی طور پر 115 صومالی شہری اور 145 ایتھوپیائی اس کشتی پر سوار تھے۔آئی او ایم نے بتایا کہ آپریشنل پیٹرول کشتیوں کی کمی کی وجہ سے اہم چیلنجوں کے باوجود تلاش اور ریسکیو کی کارروائیاں جاری ہیں، اقوام متحدہ کی ایجنسی نے کہا کہ کشتی اتوار کی صبح 3 بجیکے قریب صومالیہ کے بوساسو سے روانہ ہوئی۔ہر سال ہارن آف افریقہ سے کئی ہزار تارکین وطن تنازعات، قدرتی آفات یا ناقص معاشی امکانات سے بچ کر تیل سے مالا مال خلیج ریاستوں تک پہنچنے کے لیے بحیرہ احمر کے اس پار روانہ ہوتے ہیں، صرف 2023 میں آئی او ایم نے یمن میں 97 ہزار 200 سے زیادہ تارکین وطن کی آمد کا مشاہدہ کیا تھا۔

Comments are closed.