امریکہ نے 65 سال بعد اسمگل شدہ مجسمہ ترکی کو واپس کردیا

انقرہ (آن لائن)ترکی کا قیمتی ثقافتی ورثہ واپس لوٹ آیا ہے۔ مشہور رومی بادشاہ، مارکس اوریلیئس کی قدیم کانسی کی مورتی جو کہ 65 سال پہلے ترکی سے غیر قانونی طور پر اسمگل کر لی گئی تھی، اب اپنے اصل وطن واپس پہنچ چکی ہے۔یہ مورتی 1960 کی دہائی میں ترکی کے جنوب مغربی علاقے بوردور کے قدیم شہر بوبون سے چرائی گئی تھی۔ بوبون اپنی تاریخی اہمیت اور قدیم نوادرات کے لیے مشہور ہے۔ مارکس اوریلیئس کو ’فلسفی بادشاہ‘ کے طور پر جانا جاتا ہے، جنہوں نے نہ صرف رومن سلطنت کی قیادت کی بلکہ فلسفے میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔یہ قیمتی مورتی حالیہ مہینوں میں کلیولینڈ میوزیم آف آرٹ، امریکہ میں نمائش کے لیے رکھی گئی تھی۔ لیکن ترکی کی مسلسل کوششوں، مضبوط دلائل، سائنسی تجزیوں اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر امریکی حکام نے بالآخر اسے واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

ترکی کے وزیرِ ثقافت و سیاحت، مہمت ارسوی نے اس کامیابی کو ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، ’یہ ایک لمبی جنگ تھی۔ ہم حق پر تھے، ہم نے صبر کیا، ہم نے ہار نہیں مانی اور آخرکار ہم جیت گئے۔‘انہوں نے اس موقع پر امریکی حکام، خاص طور پر مین ہیٹن کے ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے تحقیقاتی شعبے کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واپسی محض ایک مجسمے کی نہیں بلکہ تاریخی اعتبار سے ایک بڑی کامیابی ہے۔وزیرِ ثقافت نے اس بات کا اعلان بھی کیا کہ یہ قدیم مورتی جلد ہی انقرہ میں ایک خاص نمائش میں عوام کے سامنے پیش کی جائے گی۔ یہ ترکی کی ان مستقل کوششوں کا نتیجہ ہے جو وہ اپنے چرائے گئے ثقافتی ورثے کو واپس لانے کے لیے کر رہا ہے۔ مارکس اوریلیئس کی واپسی نہ صرف ترکی بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔

Comments are closed.