افغان طالبان رجیم کی دہشتگرد سرگرمیاں عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں،آسٹریلوی جریدہ

واشنگٹن/کابل (آن لائن) افغان طالبان رجیم نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید خطرہ بن چکی ہے۔ افغانستان میں شدت پسند گروہ جیسے فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان، داعش اور القاعدہ کے مراکز قائم ہیں، جو عالمی دہشتگردی کی کارروائیوں کا مرکز بن گئے ہیں۔26 نومبر 2025 کو امریکہ کے وائٹ ہاوٴس پر فائرنگ کے واقعے میں افغان نڑاد رحمان اللہ لاکانوال ملوث تھا، جس میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار ہلاک ہوئے۔ گرفتار دہشتگرد نے اس سے قبل افغانستان میں سی آئی اے کے لیے کام کیا اور امریکی حکام کے مطابق نیشنل گارڈ پر حملہ کرنے والا شدت پسند تنظیموں سے مسلسل رابطے میں رہا۔اسی طرح، واشنگٹن میں افغان شہری جمال ولی نے ورجینیا کے دو پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کرکے زخمی کیا۔

امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ کئی افغان شہری سابقہ جرائم میں ملوث تھے اور انہیں قانونی حیثیت دی گئی تھی۔ مزید افغان شہری، جن میں عبداللہ حاجی زادہ، ناصر احمد توحیدی، محمد خروین، جاوید احمدی، بحر اللہ نوری اور ذبیح اللہ مہمند شامل ہیں، کو دہشتگردانہ سرگرمیوں کی وجہ سے گرفتار کیا گیا۔27 نومبر کو افغان سرزمین سے ڈرون حملے میں تاجکستان میں تین چینی مزدور ہلاک ہوئے، جبکہ 1 دسمبر کو جھڑپ میں مزید دو مزدور ہلاک ہو گئے۔

افغان شہریوں کی جانب سے یہ دہشتگردانہ حملے وسطی ایشیا، یورپ اور امریکہ تک پھیل چکے ہیں۔پاکستان سمیت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل افغان طالبان رجیم کی دہشتگردوں کے لیے پشت پناہی پر خدشات ظاہر کر چکی ہیں۔ رواں سال پاکستان میں ہونے والے دہشتگردانہ حملوں میں ملوث افراد کا تعلق بھی افغانستان سے تھا۔آسٹریلوی جریدے "The Conversation” کے مطابق اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خطے میں دہشتگردی کا خطرہ بڑھ گیا۔ افغانستان کے شمالی و مشرقی علاقوں میں شدت پسند نیٹ ورک کے مراکز قائم ہیں اور امریکی ادارہ برائے امن نے بھی طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان کو بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔29 نومبر 2025 کو ٹیکساس میں افغان نڑاد محمد داوٴد نے سوشل میڈیا پر بم دھماکے کی دھمکی دی۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور SIGAR رپورٹس نے مسلسل افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی نشاندہی کی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ڈنمارک اور روس نے فتنہ الخوارج کے عزائم سے عالمی برادری کو خبردار کیا۔ ایران، جرمنی اور دیگر ممالک شدت پسندی کے سبب افغانوں کو ملک بدر کر رہے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر افغان شدت پسند نظریات عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔

Comments are closed.