نئی دہلی (آن لائن) مودی سرکار کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں خواتین مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ بھارتی حکومت کی جانب سے سات لاکھ فوج تعینات کیے جانے کے باوجود مقبوضہ وادی غیر محفوظ ہے۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر کے عوام اور سیاح دونوں غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں پہلگام میں پیش آنے والے فالس فلیگ کے بعد ایک 70 سالہ بزرگ سیاح خاتون کے ساتھ زیادتی نے سیاحتی تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ بھارتی اخبار انڈیا ٹو ڈے کے مطابق مہاراشٹر سے آئی ایک بزرگ سیاح خاتون کو پہلگام کے ہوٹل کے کمرے میں ایک درندہ صفت شخص نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
یہ واقعہ نہ صرف انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ پہلگام کی سیاحتی ساکھ پر بھی بدنما داغ ہے۔مودی راج میں خواتین سے زیادتی روزانہ کا معمول بن چکا ہے جبکہ نظامِ انصاف مفلوج اور ریاست خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بی جے پی کی انتہا پسند حکومت نے بھارت کو خواتین کے لیے دنیا کا سب سے غیر محفوظ ملک بنا دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں اس قسم کے درندگی کے واقعات ہندوتوا حکمتِ عملی کا نتیجہ بن چکے ہیں۔ خواتین کیخلاف بڑھتے ہوئے جرائم کے تناظر میں امریکا نے اپنی خواتین شہریوں کو بھارت کا سفر اکیلے نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
Comments are closed.